Sunday, July 10, 2011

mah e rajub ke azmat

ما ہ رجب کی عظمت
قیامت میں جب تمام مہینے بندوں کے نیک و بد اعمال بتائیں گے تو رجب فقط نیکیاں بتا کر خاموش ہو رہے گا اس سے پو چھا جائے گا کیا تجھ میں بندوں نے گناہ نہیں کىے وہ کہے گا الٰہی تو خود جانتا ہے ہے مگر مجھے شرم آتی ہے کہ تیرے بندوں کی برائیاں بیان کروں۔
رجب کے روزے
اس مہینہ میں جو کوئی اىک روزہ رکھے گا اسے اىک مہینہ کے روزوں کا ثواب ملے گا اور دو ہزار نیکیاں اس کے نام میں لکھی جائیں گی اور دو ہزار برائیاں مٹائی جائىں گی۔ حدیث میں ہے جس نے رجب میں اىک روزہ رکھا وہ اﷲ کی بڑی خوشنودی کا مستوجب ہوا اور دو روزے رکھنے کا ثواب بیان سے باہر ہے اور تین روزے رکھنے والے کےلئے دوذخ کے درمیان اﷲ اىک خندق بنا دے گا جس کا طول ستر ہزار برس کا ہوگا اور چار روزے رکھنے والے کو اﷲ تعالیٰ جنون، جزام، برص، فتنے دجال، عذاب قبر سے بچائے گااور پانچ روزے رکھنے والی کی نیکی کا پلہ بھاری ہوگا اور سات روزے رکھنے والے پر دوذخ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا اور آٹھ روزے رکھنے والے کےلئے جنت آٹھوں دروازے کھولے جائىں گے اوراسے اختیار دیا جائے گا کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے اور نو (9)روزے رکھنے والا قبر سے کلمہ پڑھتا ہوا اٹھے گا اورسیدھا جنت میں بغیرروک ٹوک کے جاوے گا اور جس نے دس روزے ر کھے اﷲ اس کو دوسبز بازدورے گا جس میں موتی اور یاقوت جڑے ہوں گے ان کے ذرىعہ سے وہ پل صراط پر سے بجلی کی طرح گزرے گا اور گیارہ روزے رکھنے والے قیامت میں سب سے افضل ہو گا اور جس نے بارہ روزے رکھے وہ گیارہ روزے رکھنے والے سے افضل ہو گا۔ اورتیرہ روزے رکھنے والا عرش کے ساىہ میں ہوگا اور چودہ روزے رکھنے والے کو مقام آمنین پر جگہ ملے گی اوراس کو امن کی خوشخبری دی جائے گی اور حدیث میں ہے کہ تمام رجب کے روزے رکھنے والا اگر اس سال مرے تو شہىد مر ے گا۔

ماہ رجب کی نہر
حدیث میں ہے کہ ان فی الجنة نھرا یقال لہ رجب ماءھا اشدبیا ضافمن صام يو ما من رجب سقاہ اﷲ من ذالک النھر(جنت میں اىک نہر ہے جس کانام رجب ہے اس کاپانی نہایت سفید ہے جس نے رجب میں اىک روزہ بھی رکھا ہے وہ اس کا پانی پىئے گا) رجب کی پہلی رات کو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے ىہ مہینہ میر ا ہے اور بندے بھی میرے ہیں اور رحمت بھی میری ہىں میں پکارنے والے کے پکار سنونگا مانگنے والے کو دوں گا۔ مغفرت چاہنے والے کو بخشو ں گا۔میری رحمت وسیع ہے اور میں ارحم الرحمین ہوں جو کوئی پہلی شب رجب کو بیس رکعتیں دس سلام سے اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں بعد فاتحہ سورہ کافرون اىک بار اور سورہ اخلاص اىک بار پڑھے تو اﷲ اسے اور اس کے مال واسباب کو سال کی تمام آفتوں سے بچا تا ہے اور وہ قبرکے عذاب سے محفوظ رہے گا پل صراط پر بجلی کی طرح گزرے گا اور جوکوئی پہلی تاریخ روزہ رکھے اور نماز مغرب کے بعد دو رکعت پڑھے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی اور سورہ اخلاص اور فلق اىک اىک مرتبہ پڑھے ساٹھ برس کی عبادت کاثواب پاتا ہے اور سال آئندہ تک اسی ہزار فرشتے اس کے لئے بخشش مانگیں گے۔
ماہ رجب کا غسل
جس نے رجب کے اول ، وسط اورآخر میں غسل کیا تو گناہوں سے یوں پاک ہوتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے اور جس نے ہر غسل کے بعد دو رکعات پڑھیں اور ر کعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کافرون اىک بار اور اخلاص تین بار پڑھی تو اﷲ ہر رکعت کے بدلے میں اس کےلئے جنت میں قصر بنائے گا اور ہ قصر میں اىک چیز ایسی نادر ہو گی جو نہ آنکھوں سے دےکھی اور نہ کانوں اورنہ دل میں گزری ہوگی۔
فرشتے کی ندا
حدیث میں ہے کہ جو شخص رجب کی ہر رات میں چار رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سا ت مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو رجب تمام ہونے پر اىک فرشتہ اس کو ندا کرتا ہے اے اﷲ کے دوست تجھے اﷲ نے بخشش دیا اور تجھے ہر رکعت کے بدلے میں حج اور عمرہ کا ثواب دیا ہے۔
قبولیت دعا
حدیث میں ہے کہ جو شخص رجب کی پہلی رات کو جوشخص رجب کی پہلی رات کو دو رکعات پڑھے رکعت اول میں سورہ فاتحہ کے بعد اىک بار الم نشرح اور تین بار سورہ اخلاص اور رکعت ثانی میں سورہ فاتحہ کے بعد اىک بار الم نشرح اور اىک بار قل اعوذ برب الفلق اور اىک بار قل اعوذ برب الناس اور سلام کے بعد تیس بار لا الہ الا ﷲ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر پڑھ کر دعا مانگے تو قبول ہو گی۔
مراد پوری ہو گی
حدیث میں ہے جو شخص رجب کے ہر جمعہ کو عصر سے پہلے اس طر ح پڑھے چاررکعت ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد آیت الکرسی سات بار اور سورة اخلاص پانچ بار پڑھے اور سلام کے بعد پچیس مرتبہ لا حول ولاقوة الا باﷲ العلی العظيم الکبیر المتعال اوراستغفرا اﷲ الذی لاالہ الا ہو الحی القیوم غفار الذنوب ستار العیوب وعلام الغیوب واتوب اليہ سو مرتبہ پڑھے گا تو اس کی مرد پوری ہوگی اور سو حج اور سو عمرہ اور سو بردہ آزاد کرنے کاثواب پائے گا۔

shiayon k kufria aqaed

علامہ مجلسی اپنی کتاب حق الیقین میں فرماتے ہیں (( واول کسیکہ با او بیعت کند محمد باشد و بعد ازاں علی ۔۔۔ حق الیقین، ص ۱۲۹)) اور (ظہور کے بعد) سب سے پہلے محمد (ص) انکی بیعت کریں گے، اور اس کے بعد حضرت علی (رض) انکی بیعت کریں گے۔ اس کے بعد ((عائشہ را زندہ کند تا بر او حد بزند و انتقام فاطمہ ما ازو بکشد ۔۔۔ حق الیقین ، ص ۱۳۹)) حضرت عائشہ (رض) کو قبر سے نکال باہر کر کے حد لگائیں گے، اور حضرت فاطمہ (رض) کے بدلے لیں گے۔ اس کے بعد امام صاحب ، بقول شیعہ امامیہ اثنا عشریہ، حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کو قبر سے نکالیں گے اور سولی پر لٹکائیں گے،( (حتی آنکہ درشبانہ روزے ہزار مرتبہ ایشاں رابکشند وزندہ کنند ۔۔۔ حق الیقین ، ص ۱۴۵)) یہاں تک کہ دن رات میں دونوں کو ہزار مرتبہ ڈالا جائے گا اور زندہ کیا جائے گا ، اس کے بعد خدا جہاں چاہے گا ، ان کو لے جائے گا اور عذاب دیتا رہے گا۔ نیز سنیوں کا قتلِ عام بھی کریں گے ((وقتیکہ قائم علیہ السلام ظاہری شود پیش از کفار ابتداء بہ سنیان خواہد باعلماء ایشاں وایشاں راخواہد کشت ۔۔۔ حق الیقین ،ص ١٣٨)) یعنی جس وقت مہدی علیہ السلام ظاہر ہوں گے تو کافروں سے پہلے وہ سنیوں اور خاص کر ان کے عالموں سے کاروائی شروع کریں گے اور ان سب کو قتل کرکے نیست ونابود کردیں گے۔ حضرت عمر (رض) کے کافر ہونے میں شک کرنے والے کے لئے شیعہ ملا اعظم، المعروف ملا باقر مجلسی کا فرمان ہے ((ہیچ عاقل را مجال آں نیست کہ شک کند در کفر عمر پس لعنت خدا اورسول بر ایشاں باد و بر ہر کہ ایشاں را مسلمان داند و ہر کہ در لعن ایشاں توقف نماید ۔۔۔ جلاء العیون ص ۴۵)) یعنی کسی صاحب عقل کے لئے اس کی مجال اور گنجائش نہیں ہے کہ عمر کے کافر ہونے میں شک کرے پس خدا اور رسول کی لعنت ہو عمر پر اور ہر اس آدمی پر جو اس پر لعنت کرنے میں توقف کرے۔ نیز امام غائب تو ایسا بہادر اور طاقتور ہو گا کہ ((قوياً في بدنه، حتّي لو مدّ يده إلي أعظم شجرة علي وجه الارض لقلعها، ولو صاح بين الجبال لتدکدکت صخورها ۔۔۔ کمال الدين ۳۷۶/۷ )) یعنی اس کے بدن میں اتنی قوت ہو گی کہ اگر وہ چاہے گا تو بڑے سے بڑے تناور درخت کو زمین سے اکھاڑ کر پھینک دے گا ، اور پہاڑوں کے درمیان چیخ مارے گا تو ان کی چٹانیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی۔ لیکن امام جعفر فرماتے ہیں کہ ((اتق العرب فإن لهم خبر سوء أما إنه لا يخرج مع القائم منهم واحد ۔۔۔ بہار الانور ج ۱۲ ص ۳۴۱)) اہل عرب کو ڈرنا چاہئے کیونکہ ان کے لئے وہ بہت برا زمانہ آنے والا ہے اس لئے کہ امام قائم کے ساتھ ان میں سے کوئی ایک فرد بھی خروج نہ کریگا۔

                                                     www.koshsar.tk

SHANAY E SADDIQUE AKBAR(RZ)

صاحب صدق ووفا……..سيدنا ومولانا صديق الأكبر رضي الله تعالى عنه

پ كا نام عبد الله كنية ابو بكر اور لقب صديق وعتيق ہے. چھٹي پشت ميں سلسله نسب رسول الله صلى الله عليه وسلم سے جا ملتا ہے. آپ كي پيدائش سركارِ دو عالم صلى الله عليه وسلم سے دو سال بعد هوئي يعني عمر ميں آپ رضي الله تعالى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم سے دو سال چھوٹے ہيں. بچپن ہي سے شرافة آپ كي طبيعة كا حصه بن چكي تھي. آيام الجاهلية ميں بھي جب عرب معاشره ميں گناهوں كے تمام اسباب موجود تھے، آپ رضي الله تعالى عنه كسي گناه كے قريب نہيں گئے، انتهائي مالدار اور مكه كے بڑے تاجروں ميں شمار هوتا تھا مگر آپ نے

 

  كبھي شراب پي نہ ہي بدكاري كے قريب گئے. سب سے پہلے اسلام قبول كر كے مؤمن اول كہلائے. سب سے پہلے معراج كي تصديق كي تو صديق الاكبر رضي الله عنه كہلائے. مسلم غلاموں كو ان كے ظالم آقاؤں سے نجاة دلائي تو زبان نبوة سے عتيق من النار كا پروانہ ملا. آپ كي ساري زندگي كمالات سے تعبير ہے. انہي خصوصيات كے باعث آپ باقي ساري امة سے ممتاز ٹہرے اور أفضل الخلائق بعد الأنبياء كے مقام پر فائز هوئے. آپ رضي الله عنه بچپن سے رسول الله صلى الله عليه وسلم كے دوست تھے، ايك سفر سے واپسي پر جب آپ رضي الله عنه نے سنا كہ محمد صلى الله عليه وسلم نے نبوة كا دعوٰی كيا ہے تو بغير كسي دليل طلب كئے فوراً ايمان لے آئے. اس طرح مردوں ميں اسلام قبول كرنے والے پہلے صحابي ٹہرے . اسلام قبول كرنے كے بعد آپ رضي الله تعالى عنه نے پہلا اعلانيه خطبه اس وقت ارشاد فرمايا جب دشمنان اسلام رحمة دو عالم صلى الله عليه وسلم كو دعوة حق كي پاداش ميں جور وستم كا نشانہ بنا رہے تھے آپ رضي الله عنه ايك بلند مقام پر كھڑے هو گئے اور دشمنان دين كو مخاطب كر كے ارشاد فرمايا:

“اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينت من ربكم”

لوگوں تم ايك ايسے شخص كو مارنا چاہتے هو جو كہتا ہے كہ الله ميرا رب ہے (اور اپنے دعوى كي تصديق كيلئے) اپنے رب كي طرف سے تمھارے پاس واضح دلائل لے كر آيا ہے.

يہ پہلا اسلامي اعلانيه خطبه تھا جس كے ردعمل ميں منكرين اسلام نے آپ رضي الله عنه كو مار مار كر بے هوش كر ديا. اسلام قبول كرنے كے بعد آپ لمحه بھر توقف كئے بغير دين كي دعوة ميں لگ گئے. آپ كي دعوة پر بڑے بڑے صحابه كرام رضي الله عنهم نے اسلام قبول كيا جن ميں حضرة ذو النورين عثمان بن عفان رضي الله عنه، حضرة عبد الرحمن بن عوف، حضرة زبير، حضرة طلحه، حضرة سعد بن ابي وقاص اور حضرة عثمان بن مظعون رضي الله تعالى عنهم جيسے اكابر صحابه شامل ہيں. آپ نے اسلام قبول كرنے والے بے شمار غلاموں كو ان كے ظالم آقاؤں سے خريد كر آزاد كيا ان ميں بلال حبشي رضي الله عنه اور حضرة عامر ابن فهيره رضي الله عنه مشهور صحابي ہيں.

آپ كي خصوصيات ميں آپ كا ايك بڑا اعزاز خليفة الرسول الله هونا ہے يہ اعزاز نہ تو كسي اور كو ملا ہے نہ ہي مل سكتا ہے. آپ رضي الله عنه ہي وہ عظيم صحابي ہيں كہ هجرة كے سفر كيلئے رسول الله صلى الله عليه وسلم نے آپ رضي الله عنه كي معية كا انتخاب فرمايا. پھر سفر هجرة ميں رسول الله صلى الله عليه وسلم كے ساتھ رہے. غار ثور ميں تين راتوں كے قيام ميں آپ رضي الله تعالى عنه كي گود ميں سرور كونين صلى الله عليه وسلم كا سر مبارك ركھا هوا تھا. رخ محبوب كا جي بھر كر ديدار كيا. ديدار كے مزے لوٹ رہے تھے كہ آپ كے پاؤں كو ايك سانپ نے ڈس ليا. صديق الاكبر رضي الله تعالٰی عنه كي آنكھوں سے درد كے اثر سے جاري هونے والے آنسو رسول الله صلى الله عليه وسلم كے مبارك رخساروں پر گرے. بيدار هو كر آپ صلى الله عليه وسلم نے لعاب دہن ابو بكر صديق رضي الله عنه كي ايڑي پر لگايا جس سے آپ رضي الله تعالى عنه كي تكليف رفع هو گئي. الغرض هجرة كے سفر ميں جو اعزازات حضرة ابو بكر صديق رضي الله تعالى عنه كو حاصل هوئے وہ آپ ہي كا حصه ہيں، خود الله سبحانه وتعالى نے سفر هجرة سے متعلق آپ كا ذكر قرآن پاك ميں فرمايا:

ثاني اثنين اذ هما في الغار، اذ يقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا

كہ وہ دوسرا تھا دو ميں كا جب وہ دونوں تھے غار ميں، جب وہ كہہ رہا تھا اپنے رفيق سے تو غم نہ كھا بيشك الله ہمارے ساتھ ہے
(سورة التوبة آية 40 – ترجمه حضرة شيخ الهند رحمه الله)

يہي وجه ہے كہ سيدنا فاروق الأعظم رضي الله تعالى عنه كبھي كبھي آپ رضي الله عنه سے فرمايا كرتے تھے كہ ميري زندگي كي ساري نيكياں لے لو، صرف غار كي تين راتيں مجھے دے دو. مگر يہ خدائي تقسيم، نسبة اور قسمة كي باتيں جس كے حصے ميں تھيں اس كا مقدر ٹہريں. ايك مرتبہ كا ذكر ہے فجر كي نماز كے بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم صحابه كرام رضي الله تعالى عنهم سے مخاطب هوئے اور ارشاد فرمايا: “تم ميں سے كس شخص نے آج روزہ ركھا ہے؟” تمام لوگ خاموش رہے، صديق اكبر رضي الله عنه كھڑے هوئے اور عرض كي كہ آقا ميں روزے سے هوں. پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا: “تم ميں سے كس شخص نے آج نماز سے پہلے صدقه كيا ہے”؟ پھر تمام لوگ خاموش رہے حضرة صديق اكبر رضي الله عنه كھڑے هوئے اور عرض كي: “نماز كيلئے آرہا تھا راستے ميں ايك سائل نے سوال كيا جيب ميں جو كچھ تھا اس كو دے ديا ہے تاكہ ميرا رب مجھ سے راضي هو جائے”. آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر ارشاد فرمايا: “تم ميں سے كوئي ايسا شخص ہے جس نے نماز سے قبل كسي كي خدمة كي ہے؟” اس سوال پر بھي سب خاموش رہے. حضرة ابو بكر الصديق رضي الله تعالى عنه پھر كھڑے هوئے اور عرض كي كہ آقا صلى الله عليه وسلم تهجد كي نماز كے بعد فلاں بڑھيا كے گھر كا كام كاج كر كے آيا هوں. اس پر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے انتهائي خوشي كا اظهار كرتے هوئے ارشاد فرمايا: “ابو بكر تمھيں مبارك هو الله نے جبرائيل (عليه السلام) كے ذريعه تمھيں سلام بھيجا ہے”. كتنے بڑے اعزاز كي بات ہے كہ خود خالق كائنات آپ رضي الله عنه كو سلام بھيجيں. آپ كي اس عظمة، بلند مقام، عظيم رتبه اور دين كيلئے دي جانے والي قربانيوں كے پيش نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمايا: “اقتدوا بالذين من بعدي ابي بكر وعمر” كہ ميرے بعد ابو بكر اور عمر كي اتباع كرنا. آپ ہي وہ واحد صحابي ہيں جنھوں نے نبي كريم صلى الله عليه وسلم كے مصلى پر 17 نمازيں پڑھائيں. آپ ہي كو اپني زندگي ميں حج كا امير بنا كر آقائے دو عالم صلى الله عليه وسلم نے خلافة كي طرف اشاره فرما ديا. آپ رضي الله عنه نے رسول الله صلى الله عليه وسلم كي رحلة كے بعد سوا دو سال تك خلافة كے منصب كو سنبھالے ركھا. دين كے خلاف اٹھنے والے فتن مدعيان نبوة, منكرين زكوة اور ارتداد كے فتنے كي سركوبي نهاية جرأة اور دليري سے كي. تمام مصلحتوں كو بالائے طاق ركھتے هوئے اندروني اور بيروني سازشوں كا مقابله قوة ايماني سے كيا

اپنے دور خلافة ميں خليفة المسلمين هوتے هوئے بھي نهاية تنگ دستي ميں وقت گزارا. آپ رضي الله تعالى عنه نے اپنے مرض وفاة ميں ام المؤمنين سيّده عائشه صديقه رضي الله تعالى عنها سے فرمايا كہ ديكھو ميرے مرنے كے بعد ايك اونٹني، ايك برتن كھانے كا، ايك چادر (سونے كيلئے) جو ميرے پاس بيت المال كي امانة ہيں مجھے يہ سامان بيت المال سے ديا گيا تھا، بيت المال ميں جمع كروادينا. آپ رضي الله تعالى عنه كي وفاة كے بعد اُم المؤمنين سيده عائشه صديقه رضي الله تعالى عنها جب يہ مال لے كر حضرة عمر رضي الله تعالى عنه كے پاس پہنچيں تو حضرة عمر رضي الله عنه كي آنكھوں ميں آنسو آگئے اور ارشاد فرمايا: “ابو بكر تم پر الله رحم كرے ہميں سخت مشكل ميں ڈال ديا (كے خليفه اول كے معار پر بعد والے كيسے اتريں)”

يہ تھے خلفاء الراشدين المهديين، اور يہ تھيں ان كي زندگياں، وہ عيش وعشرة كے قريب بھي نہ گئے تھے، ان كي زندگياں مشعل راه، معار هداية اور قابل تقليد ہيں. آج كے بگڑے دور ميں بے سكوني، اضطراب، معاشي واقتصادي مسائل كا واحد حل خلفاء الراشدين كي تقليد اور ان كے نظام حكومة كو اپنانے ميں مضمر ہے. اے الله ہميں كوئي نيك دل حكمران عطا كردے جو خلفاء الراشدين كے طرز عمل كو نافذ كر كے دنيا كو راحة وسكون كا پيغام دے.

حضرة صديق الأكبر رضي الله عنه دو سال چار ماہ تك منصب خلافة پر جلوه افروز رہنے كے بعد پير كے دن 63 سال كي عمر ميں 22 جمادي الثانيه كو دنيا سے رخصة هوئے. (رضي الله عنه وارضاه)